السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

Monday, July 19, 2010

ممبرا کے باشندے واقعی امن پسند ہیں

"ممبرا کے باشندے واقعی امن پسند ہیں"

ممبرا ، ایک بہت ہی پر امن شہر ہے کیوں کہ یہاں کے باشندے بہت امن پسند ہیں!
پر کل رات عجیب منظر تھا-
ممبرا کے  باشندے اپنے گھروں سے باہر آ چکے تھے! سڑک پر صرف لوگوں کا ہی سیلاب نظر آ رہا تھا -  یہ منظر تھا ممبرا آمدار (ایم ایل اے)جناب  جتیندر آوہاڈ کے ممبرا دفتر کے باہر کا!
ہوا  یوں کے ممبرا میں جو لوڈ شیڈنگ صبح کے ۶ بجے سے ١٠  بجے تک اور دوپہر ٢.٣٠  سے  ٦.٣٠  تک (صرف ٨ گھنٹے) ہوا کرتی تھی ، اور ساتھ ہی ساتھ امرجنسی  لوڈ شیڈنگ اور درمیان میں آنکھ مچوی بھی (٢ منٹ آنا اور آدھا یا ایک گھنٹہ جانا) ، وہ ریکارڈ توڑ کر نا معلوم  گھنٹوں میں تبدیل ہو گئی تھی! (واضح رہے قریب کے ہی  کلوا ، دیوا وغیرہ  میں یہی لوڈ شیڈنگ صرف ٣ گھنٹے ہے)
لہذا مکمل دن لائٹ  بند رہی!
جہاں بھی سنائی دیا وہ بچے بلک رہے تھے ، طالب علم سبھ ٦  بجے سے ہی انتظار میں تھے ، کاروبار والے ، جن کا کاروبار ہی لائٹ  پرٹیک ہوا  ہے ، ہاتھ پر ہاتھ رکھے  ہوے بیٹھے تھے!
انتظار کرتے کرتےشام کے ٧  بج گئے پر پھر بھی اندھیرا -
آخر کار لوگ گھروں سے باہر آئے اور جناب 
MLA صاحب کے آفس کے باہر اکٹھا ہونے لگے- جیسے جیسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو  رہا تھا   ویسے ویسے ہی پولیس والے  بھی بڑھ رہے تھے- دیکھتے ہی دیکھتے تعداد سیکڑوں میں پہنچ گئی-
لوگ مومبتییاں  لے کر مظاہرہ کر رہے تھے ، روڈ جام ہو چکا  تھا ، نعرے کی آوازیں ممبرا کو ہلا رہی تھی-
اچانک لوگ قابو سے باہر ہو گئے ، ناروں کا شور اونچا ہو گیا ، جب پلٹ کر دیکھا تو ممبرا کے بڑے ہی ارما نوں اور وعدوں کے ساتھ منتخب MLA اور ان کے بوڈی گارڈ انہیں بھیڑ سے بچاتے ہوے آفس میں داخل کرا رہے تھے-
پھر کیا تھا تڑپی  ہوئی عوام نے ہاہاکار مچا دیا- چاروں طرف سے یہی آوازیں آ رہی تھی : کیا ہوا ، تیرا ١٠٠  دنوں کا وعدہ (یاد رہے MLA بننے سے قبل آوہاڈ صاحب نے عوام سے یہی وعدہ کیا تھا کی اگر انہیں جتا دیا تو وہ ١٠٠ دنوں میں لائٹ  کے مسائل دور کر دیں گے) !! MSEB چور ہے!! MLA بھی چور ہے!!
اچانک MLA صاحب کرسی پر چڑھ گئے اور عوام سے ہاتھ جوڑ کر خاموش ہونے کو کہا ، پر اس کے برعکس عوام اپنی پوری طاقت کے ساتھ نعرے لگا رہی تھی -  کچھ وقت بعد شور ٹھودّا  ہوا  ، اور MLA صاحب نے بولنا شروع کیا کی : "میں جب سے MLA بنا ہوں یہی کوشش کر رہا ہوں کی آپ کی مسئلہ دور کروں ، صبح سے میں بھی MSEB والو سے لڑ رہا ہوں وغیرہ..." اور پھرسے عوام  کہنا شروع ہو گئی MLA جھوٹا  ہے ، MLA چور ہے...-
اچانک کسی کم عقل  نے پاس میں ہی لگے لائٹ  کے کھمبے کی ہورڈنگ ہٹانے کی کوشش کی جس سے شورٹ سرکٹ ہو گیا (اس جما وڑے کے درمیان میں ہی لائٹ  وہی آنکھ مچوی کھیل رہی تھی) اور لوگ بچنے کے لئے ادھر ادھر ہو گئے ، اسی درمیان کسی دوسرے کم عقل نے پتھر بھی فیکنيں شروع کر دئے -
موقع دیکھ کر MLA صاحب وہاں سے نکل گئے ، یونہی تڑپتے  ہوے ان لوگوں کو چھوڑ کر جنہوں نے انکو جتانے کے لئے اپنے دن اور راتیں قربان دیں تھیں-
اسی درمیان پولیس نے بھی لوگوں کو بھگانا  شروع کر دیا-  پھر کیا تھا نا ہی کچھ ہوا ، نا ہی کچھ ملا،  اور لوگ آہستہ آہستہ اپنے اندھیرے میں ڈوبے  ہوے گھروں کی طرف بڑھنے لگے! "لوگ جاتے گئے اورکا روا ں  ختم ہوتا رہا"-
لائن آ گئی مگر رات ۱ بجے! اس کے بعد بھی آنکھ مچولی رات بھر چلتی رہی!
بیچارے ممبرا کے باشندے واقعی امن پسند ہیں!
-- ضیا الاسلام

No comments:

Post a Comment